غلامی اور نسل پرستی | Gulami Or Nasal Parsati

Fiction House

Skip to product information
1 of 1
Regular price Rs.225.00 PKR
Regular price Rs.300.00 PKR Sale price Rs.225.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.

تاریخ میں قومیں اور تہذیہیں عروج و زوال سے دو چار ہوتی رہتی ہیں، جب عروج کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت ادارے بنتے ہیں، روایات پروان چڑھتی ہیں ، اور قدریں تشکیل پاتی ہیں ۔ یہ سب مل کر معاشرے کو آپس میں جوڑتی ہیں ۔ اس مرحلہ پر معاشرہ میں تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں ۔ آرٹ اور ادب میں ترقی ہوتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایجادات ہوتی ہیں۔ معاشرہ ان لوگوں کی قدر کرتا ہے کہ جو اس کی تخلیقی سر گرمیوں میں مدد دیتے ہیں، نئے خیالات و افکار پیدا کرتے ہیں، اور ذہنوں کو تازگی عطا کرتے ہیں۔

مگر جب معاشرے زوال پذیر ہوتے ہیں تو ادارے،روایات، قدریں اور لوگوں کو جوڑنے والے یہ تمام عناصر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسے میں کوئی شاعر، ادیب یا آرٹسٹ کوئی چیز تخلیق بھی کرتا ہے تو وہ ویرانے میں گم ہو جاتی ہے۔ معاشرہ اپنی زہن کی پختگی کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئے احساس جمال بے اہمیت ہو جاتا ہے۔ موسیقی کا آہنگ بے معنی ہوجاتا ہے۔ ایک ایسے معاشرہ میں جھوٹ، فریب، سازش، بدعنوانی اور منافقت کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تاریخ میں کبھی عروج تو دیکھا ہی نہیں، اس لئے میدان مراحل سے نہیں گزرا کہ جن سے عروج کی قومیں گزرتی ہیں ۔ عروج کی یہ تاریخ ان میں ماضی کی یادگاریں ہی چھوڑ جاتی ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاشرہ زوال پر بھی نہیں ہے۔

اس لئے اس کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک پسماندہ معاشرہ ہے۔ ایک اایسا معاشرہ کہ جس کی نہ تو شاندار تاریخ ہے اور نہ ہی عظمت والا ماضی۔ اس کی ابتداء کھولی بنیادوں سے ہوئی تھی، جو برابر کھوکھلی ہورہی ہیں اور یہ معاشرہ برابر ان میں دھنسا چلا جارہا ہے۔ پس ماندہ معاشرہ، پس ماندہ ذہنیت پیدا کرتا ہے، ایک ایسی ذہنیت کہ جس میں نیکی اور بھلائی کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں اگر کوئی ایمانداری اور بھلائی پر عمل کرتا ہےتو وہ اس معاشرہ کا اچھوت بن جاتا ہے۔\nاس لئے ہمارے پس ماندہ معاشرہ میں نیکی ، خیر، بھلائی یہ سب اجنبی ہو کر رہ گئی ہیں۔ لحاظ ، مروت، دوستی اور ایمانداری اس قسم کی خصوصیت کا ذکر اب صرف ڈکشنری میں ہے۔ عملی طور پر ان کا جو نظر نہیں آتا ہے۔

پس ماندہ رہنے کی کوئی مدت نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ اس پس ماندگی کو تقویت دینے والے ادارے اور افراد ہوتے ہیں، جو معاشرہ میں صاحب اقتدار، صاحب مراعات اور صاحب طاقت ہوتے ہیں۔ ان کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ صورت حال اسی طرح رہے۔ لہذا پس ماندگی اپنی جڑیں اور زیادہ گہری کرتی چلی جاتی ہے۔

عام لوگ جو اس پس ماندگی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی توانائی اور طاقت کو اس قدر سلب کرلیا جاتا ہے کہ ان میں احتجاج اور بغاوت کی ہمت نہیں رہتا ہے۔ پس ماندگی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

ان مضامین میں ایسے ہی بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جن کا جواب مشکل سے ملے گا۔ اگر جواب مل بھی جائے تو اس کا حل

  • Share your shipping policy
  • Share your packaging details
View full details