تہذیب کی کہانی سیٹ

Fiction House

Skip to product information
1 of 3
Regular price Rs.700.00 PKR
Regular price Rs.900.00 PKR Sale price Rs.700.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
کتاب: تہذیب کی کہانی: پتھر کا زمانہ
مصنف: ڈاکٹر مبارک علی
پبلیشر: تاریخ پبلیکیشنز
جائزہ: ضیغم شبیر چدھڑ
ڈاکٹر مبارک علی نے تہذیب کی بنیادی چیزیں جو ہر قاری کے علم میں ہونی چاہیں, اپنی تین مختصر کتب پر مشتمل سیریز میں سمیٹ کر عام قاری پر ایک طرح کا احسان کیا ہے. ڈاکٹر مبارک ایک بڑے مورخ ہیں اور بہت سی کتب کے مصنف ہیں. روزمرہ کے ہر ایک خاص موضوع پر انکی کتاب آپکو پڑھنے کو مل جائے گی. ایسے ہی انسانی ارتقاء کا ذکر اس سیریز میں کرتے ہیں. سیریز کی پہلی کتاب تہذیب کی کہانی: "پتھر کا زمانہ" کو ڈاکٹر مبارک نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے. اور انسان کن کٹھن مراحل سے گزر کر اس جگہ پہنچا ہے پر روشنی ڈالی ہے. پتھر کے زمانہ کو قاری کی آسانی کیلئے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے. پہلے حصے میں تاریخ کے چند بنیادی سوالات کا جواب دیا گیا. دوسرے حصہ میں قدیم پتھر کا زمانہ کا ذکر ہے, تیسرا حصہ درمیانی پتھر کا زمانہ اور آخری حصہ جدید پتھر کا زمانہ پر روشنی ڈالتا ہے.
کتاب پتھر کا زمانہ میں ڈاکٹر صاحب قاری کے ذہن میں تاریخ کے متعلق ابھرنے والے چند بنیادی سوالات جیسا کہ تاریخ کیا ہے؟ اور کیوں پڑھنی چاہیے؟ تاریخ کیسے لکھتے ہیں اور تاریخ کے ماخذ کیا ہیں؟ تاریخ کیا ہے کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ "تاریخ گزرے ہوئے واقعات کا مجموعہ ہے." مورخ نے ایسے ہی سوالات کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ہے کیا وہ تاریخ کا حصہ ہیں؟ جیسے سوالات کو زیر بحث لایا ہے. اور مورخ کی تاریخ لکھتے ہوئے کیا ذمہ داری ہوتی ہے, جیسے سوالات پر بھی بات کی ہے. پہلے باب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کون سی چیزیں تاریخ لکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں, جیسا کہ زبانی تاریخ, تحریری تاریخ, آثار قدیمہ, کتبات, مصوری, مجسمہ سازی, نقشے, ادب وغیرہ تاریخ لکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں. ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ کون بناتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تاریخ بڑے لوگ بناتے ہیں, اور انہیں ہیرو کہا جاتا ہے. لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے. "تاریخ عام لوگ بناتے ہیں." قاری کی آسانی کیلئے مثال سے واضع کرتے ہیں, کہ جنگ میں لڑنے والے عام فوجی ہوتے ہیں. عمارتیں عام لوگ بناتے ہیں. ایک اور اہم سوال جسے تاریخ میں نظر انداز کیا گیا ہے زیر بحث لاتے ہیں کہ کیا عورتیں تاریخ بناتی ہیں؟ اس کے جواب میں لکھتے ہیں تاریخ کے عمل میں عورتیں سب سے زیادہ حصہ لیتی ہیں. لیکن ان کے کام کو اہمیت نہ دے کر انہیں تاریخ سے غائب کر دیا گیا.
کتاب "پتھر کا زمانہ" کے دوسرے باب میں ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ قدیم پتھر کے زمانہ کا انسان نہتا تھا اور مختلف حربوں سے غذا جمع کر کے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا. قدیم دور کے انسان نے جنگی جانوروں کے حملوں کے خوف سے گروہ میں رہنا شروع کر دیا تاکہ خود کو محفوظ کر سکے. قدیم پتھر کے دور کا انسان اکھٹے ہی شکار کرتے اور اکھٹے ہی کھا لیتے تھے. کیونکہ اس دور کا انسان کاشتکاری وغیرہ سے آشنا نہ تھا تو اسے زندہ رہنے کے لیے درختوں کے پتوں, پھل, کیڑے مکوڑوں پر اکتفا کرنا پڑتا تھا. غذا حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ شکار تھا.اور جب انسان نے اوزار بنانا سیکھ لیے تو انکی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں. قدیم پتھر کا زمانہ میں انسان نے مختلف قسم کے اوزار بنانے شروع کر دیے تھے. زبان کی ابتدا بھی اس دور میں ہو چکی تھی اور اشاروں نے آواز کی شکل اختیار کی. قدیم دور میں انسان نے نیزہ, تیرکمان بھی بنا لیے تھے اور آگ کا استعمال سے بھی آشنا ہو گئے تھے. اس دور میں انسان کی عمر کم تھی.
درمیانی پتھر کا زمانہ کا انسان بہتری کی طرف گامزن تھا. اس دور میں انسان نے کاشتکاری کی ابتدا کر دی تھی. کاشتکاری کی وجہ سے بستیاں وجود میں آنے لگیں. بستیوں کا قیام دریا کے کنارے پر ہوتا تھا. درمیانی دور میں انسان نے آگ پر گوشت بھوننا شروع کر دیا تھا. انسانی زندگی میں ایک اور جو تبدیلی آئی وہ جانوروں کی کھالوں کو لباس کیلئے استعمال کرنا تھا. اس دور میں بھی انسان کی عمر کم تھی جو اوسطا 15 سے 28 سال تھی.
آخری باب میں جدید پتھر کا زمانہ پر نظر ڈالی گئی ہے. قدیم دور سے جدید دور میں داخل ہوتے ہوئے انسانی زندگی بہت تبدیل ہو چکی تھی. جو خوراک کی مشکلات اسے قدیم دور میں تھیں وہ اب نہیں رہیں. اب انسان شکار کیلئے جنگوں میں مارا مارا پھرنے سے کاشتکار میں تبدیل ہو گیا تھا. خواہ وہ ابھی بھی شکار کرتا تھا. جدید دور ایک انقلاب تھا جو آہستہ آہستہ آیا. لیکن اس میں انسان کے بنائے اوزاروں میں جدیدیت آئی. انسان نے بسولی, تیرکمان اور دوسرے اوزاروں کا عمدہ استعمال سیکھ لیا تھا اور ان کی شکل بھی پہلے سے بہتر تھی. جدید دور کے اوزار پہلے دور سے زیادہ نوکیلے اور تیز تھے. جدید دور کا انسان خانہ بدوشی ترک کر کے بستیوں میں گھر بنا کر رہتا تھا. بستیوں نے گاوں کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی. کھیتی باڑی میں تبدیلیاں آئیں. آب پاشی کے ذرائع بنائے گئے تاکہ فصل اچھی ہو. جدید دور کے انسان نے جانوروں کو پالنا اور کپڑا بُننے جیسے کام کا آغاز کر دیا تھا. خوراک کو محفوظ کرنے کیلئے برتن بنانے اور اسکا استعمال بھی اس دور میں شروع ہو چکا تھا. جدید دور کے انسان نے پہیہ بھی بنا لیا تھا اور مذہبی عقائد کی بنیاد بھی پڑ چکی تھی. مہر گڑھ, جو کہ جدید پتھر کے زمانہ کی بستی تھی, کی قبروں کی کھدائی سے پتا چلا ہے کہ یہ لوگ مُردوں کے ساتھ ان سے منسلک چیزیں بھی دفن کرتے تھے. ایک قبر سے بکری کا ڈھانچہ ملا ہے, چند سے زیورات ملے ہیں. جدید دور کے انسان کی اوسطا عمر چالیس برس تھی.
ضیغم شبیر چدھڑ
  • Share your shipping policy
  • Share your packaging details
View full details