Skip to product information
1 of 1

Fiction House

تصور خدا

تصور خدا

Regular price Rs.400.00 PKR
Regular price Sale price Rs.400.00 PKR
Sale Sold out
(i) تصور خدا
’’جیسا کہ ہم دیکھ آئے ہیں کہ اولین انسان اس وہم میں مبتلا ہو گیا کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی tasawar-e-khudaہے خود اس کی طرح صاحب شعور (روح) ہے۔ جو اسے اپنی مرضی سے نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے جھک گیا، اور ان اشیاء و مظاہر (دیوتاؤں) کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وہی کچھ کرنے لگا، جس طرح ایک کمزور انسان اپنے سے طاقت ور اور برتر انسان کی خوشنودی کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ اس وہم میں مبتلا ہونے میں انسان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ان حالات میں انسان ایسا ہی سوچ سکتا تھا۔ انسانی شعور ابھی اپنے بچپن میں تھا۔ اس کی حالت بالکل انسانی بچے جیسی تھی، ایک حیران کن دنیا ، جہاں زندگی کی بقا ہر آن خطرے میں تھی۔ اس کے مقابل انسان کے پاس اپنی تصوراتی اور خیالی قوتیں ہی تھیں۔ انسان نے خارجی دنیا کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ خاص تصورات اور اعمال وضع کئے، جن کی پیروی میں انسان طرح طرح کے اوہام میں مبتلا ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔‘‘(صفحہ ۲۷ )
’’ ۔۔۔۔مذاہب کا عمومی دعو یٰ ہے کہ وہ خدا کا براہ راست یا بالواسطہ دیا ہوا علم ہیں۔ اس کائنات کے بارے میں مذاہب نے آج تک انسان کو جو معلومات بہم پہنچائیں ، وہ سائنس کی بیان کردہ حقیقتوں سے اتنی مختلف ، متضاد اور مبہم کیوں تھیں؟ ظاہر ہے سائنس ایک ایسا معروضی علم ہے۔ جو ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کی خلق کردہ دنیا کس ترتیب و ترکیب اور کن قوانین اور اصولوں کے مطابق بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ انسان بذریعہ سائنس اپنے ماحول کا صحیح علم حاصل کر کے ہی انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے، کائنات کو بجاطور پر خدا کا فعل (ACTION)کہہ سکتے ہیں۔ یعنی خدا اس کے سوا کیا ہے، کہ God in Action ہے۔ اور خدا کا یہ فعل کیسے اور کیونکر ہو رہا ہے۔ اس علم کو سائنس کہتے ہیں۔ اور بقول مذاہب ۔۔وہ خدا کا دیا زبانی علم ہیں۔ لیکن تاریخ اس باب میں ہماری راہنمائی نہیں کرتی کہ مذاہب نے انسان کو کائنات کے بارے صحیح ، صاف اور غیر مبہم علم دیا ہو۔ اس کے برعکس قصے کہانیاں، مبہم باتیں اور غیر حقیقی توجیہات کی بھرمار زیادہ نظر آتی ہے۔ انسان نے آج تک اس دنیا کے بارے میں جتنا بھی علم مجتمع کیا ہے۔مذاہب کا اس میں کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے، کہ عقائد اس دنیا کے بارے میں جاننے کی انسانی جستجو کے راستے کی ہمیشہ رکاوٹ بنے رہے۔۔۔‘‘(صفحہ ۵۰ )

Shipping & Returns

View full details
  • Free Shipping

    Pair text with an image to focus on your chosen product, collection, or blog post. Add details on availability, style, or even provide a review.