Skip to product information
1 of 1

Fiction House

بوڑھا اور سمندر

بوڑھا اور سمندر

Regular price Rs.350.00 PKR
Regular price Sale price Rs.350.00 PKR
Sale Sold out
بوڑھا اور سمندر۔ارنسٹ ہیمنگوے
The old man and the sea
"بوڑھا اور سمندر "ایک بوڑھے مچھیرے(سانتیاگو) کی کہانی ہے،جو چوراسی دنوں تک مچھلی پکڑنے میں ناکام رہتا ہے ۔کبھی کا "سانتیاگو چمپئن" جس نے ایک دفعہ ایک حبشی کے ساتھ پورا ایک دن اور ایک رات پنجہ آزمائی کا مقابلہ کیا تھا ،اب ایک" سلاؤ" بن کر رہ گیا ہے جو ہسپانوی زبان میں "انتہائی بدقسمت "کو کہا جاتا ہے ،اس کا واحد شاگر د نا چاہتے ہوئے، اپنے ماں باپ کے کہنے پر اسے چھوڑ کرایک دوسری کشتی کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے جاتا ہے ،لیکن وہ اب بھی دن کے آغاز پر بوڑھے کی کشتی تیا ر کر نے اور شام کو ماہی گیری کا سامان گھر لانے میں اس کی مدد کرتا رہتا ہے ۔
بڑھاپے میں کسی کو تنہا نہیں ہونا چاہئے ،لیکن بوڑھے کا سارا دن سمندر میں تنہائی میں گزرتا ہے ،وہ ہر وقت سوچنے لگ جاتا ہے اور جب بھی کوئی بات اس کے من میں مچلنے لگتی ہے تو وہ اپنے آپ سے ،سمندر او ر چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ بلند آواز میں باتیں کر نا شروع کر تا ہے ۔بعد میں جب وہ اپنی بڑی مہم سے واپس آتا ہے ،جس کے ارد گرد ناول کی ساری کہانی گھومتی ہے ،تو اپنے شاگرد کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اسے احسا س ہوتا ہے کہ "اپنے آپ سے اور سمندر کے ساتھ باتیں کرنے کی نسبت کسی انسان کی موجودگی میں باتیں کرنا کتنا لطف دیتا ہے"۔
"انسان شکست کھانے کے لئے پیدا نہیں ہو ،اسے فنا تو کیا جا سکتا ہے پر شکست نہیں دی جا سکتی "۔بوڑھا بھی شکست نہیں مانتا اور پھر ایک دن وہ صبح سویرے مچھلی پکڑنے بہت دور نکل جاتا ہے ۔جوانی میں ایک دن اور ایک رات پنجہ آزمائی کر نے والا بڑھاپے میں دو راتیں اور تین دن اپنی کشتی سے بڑی مچھلی اور واپسی میں شارک مچلیوں ،جو اس کے شکار کی ہوئی مچھلی کو ہڑپ کرنا چاہتی ہیں ،بھڑ جاتا ہے ۔وہ چھ سات شارک مچھلیوں کو مار دیتا ہے اور کئی کو زخمی کر دیتا ہے ۔ جب شارک مچھلیاں اس کے مچھلی کا بہت سا حصہ ہڑ پ کر جاتے ہیں ،تو وہ سوچتا ہے کہ قسمت کو اس کا ساتھ دینا چاہئے تا کہ وہ آدھی مچھلی کو تو گھر لے جا سکے ،لیکن پھر اپنے آپ سے ہی یہ کہتا ہے کہ اس نے خود ہی قسمت کے قوانین کو پامال کیا تھا جب وہ اتنا دور نکل آیا تھا ۔سمندر کے کنارے پہنچ کر جب وہ کشتی کو چٹان کے ساتھ باندھ کر جب اپنے شکار کئے ہوئے مچھلی کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا صرف پنجرہ ہی باقی ہو تا ہے ۔پھر بھی اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس دوران اس نے ایک دفعہ بھی ہمت نہیں ہاری تھی اور اکیلے ہی ایک بڑے مہم کو سر کیا تھا ،یہی وجہ ہے کہ گھر آکر وہ سکون کی نیند سو جاتا ہے۔اور اگلے دن اٹھ کر اپنے شاگرد کے ساتھ مچھلیاں شکار کرنے کا پلان بنانے لگتا ہے۔
یہ ناول انسان کی تنہائی ،سوچ وگماں ،ہمت و قوت اور قسمت کی داستان ہے جو پہلی با ر ستمبر 1952 میں چھپا،1953 میں اسے فکشن کا pultizerانعام دیا گیا اور 1954 میں اسی کی بدولت ہیمنگوے کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔۔
محمد اُویس

Shipping & Returns

View full details
whatsapp-account-image

Fiction House

68 Mozang Road Lahore

Whastapp 03074618280

email @ fictionhouse1991@gmail.com

  • Free Shipping

    Pair text with an image to focus on your chosen product, collection, or blog post. Add details on availability, style, or even provide a review.