Sindh Khamoshi Ki Awaz

600.00

SKU: 9789699146107 Categories: ,

Book Details

Weight 0.4 kg
Writer

Dr Mubarak Ali

Pages:

280

ISBN No:

9789699146107

Publisher:

Tarikh Publication

Language:

Urdu

Year:

2012, 2016, 2020

About The Author

Dr. Mubarak Ali

Dr. Mubarak Ali

Mubarak Ali (Urdu: مبارک علی) is a Pakistani historian, activist and scholar. His main theme, in most of his books, has been that some history books written in Pakistan had been 'dictated' by the ruling class (the so-called 'Establishment in Pakistan') and, in his view, those history books represent 'perversion of facts'.

کتاب : “سندھ: خاموشی کی آواز”

مصنف : ڈاکٹر مبارک علی

سندھ کی تاریخ ھمیشہ سے دو نقطہِ

نظر سے لکھی گئی ہے ۔ اول مؤرخ نے حکمران کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تاریخ کو حکمران کے نقطہِ نظر سے لکھا ہے اور سندھ کی بدقسمتی یہ رہی ہے اس پر غیر ملکی سرمایہ کار قابض رہے اور سندھ کی تاریخ میں سندھ پر حملے کرنے والے ہیرو ابھر کر سامنے آئے ۔

دوسرا نقطہِ نظر جو مورخوں نے استمعال کیا وہ ہے قومی نقطہِ نظر۔ اور تاریخ کو محدود وژن دیا۔

اس کے متعلق ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں،

“یہ دونوں راستے تنگ نظری اور محدود وژن کی طرف لے جاتے ہیں۔ تاریخ کی صحیح تشکیل صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب اسے عوامی نقطہِ نظر سے لایا جائے اور انہیں تاریخ میں ان کا صحیح مقام دیا جائے۔”

سندھ کی تاریخ میں ہمیشہ غیر ملکی حکمرانوں کا غلبہ رہا ہے۔ سندھ غیر ملکی حملا آوروں کے تحت رہا ہے اور سندھ پر حملے کے بعد آسانی سے اس پر قابض ہوجاتے تھے۔ اور ان حملا آوروں کی کامیابی کی وجہ یہ تھی سندھ کے حکمران عوام سے دور شہروں تک محدود تھے اور ان کا عام عوام سے وابستہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اور اس سبب حملے کی صورت میں کوئی مذاحمت نہیں کرتا تھا۔ سندھ کا جاگیردارانہ معاشرا ہونے کے باعث سندھ کی آبادی کو حکومت میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا اور اگر وہ اس کے خلاف بغاوت کرتے تو ان بغاوتوں کو کچل دیا جاتا تھا۔
غیر ملکی حملا آوروں کی فہرستوں سے پہلے سندھ میں بادشاہت کا نظام تھا اور اس نظام کا سرپرست بادشاہ یا راجہ ہؤا کرتا تھا۔ سندھ میں عربوں سے پہلے رائے اور برہمن خاندانوں نے حکومت کی۔ عربوں سے پہلے سندھ میں بدھ مذہب مقبول تھا۔ عربوں کے حملے کے وقت سندھ کا حکمران برہمن خاندان کا راجہ داہر تھا۔ مسلمان مؤرخ لکھتے ہیں کہ ٹھٹہ کے قریب دیبل کے بندرگاہ پر راجہ داہر کے لوٹیرون نے عرب کے ایک جہاز کو لوٹا، عورتوں اور بچوں کو قید کیا۔ اور اس دوران ایک لڑکی نے حجاج بن یوسف سے مدد کی فریاد کی۔ جس کے نتیجے میں حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو فوج کے ساتھ سندھ پر حملے کے لیے بھیجا۔ راجہ داہر کو شکست دے کر عربوں نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج بن یوسف کی وفات کے بعد سلیمان عبدالملک نے محمد بن قاسم کو گرفتار کر لیا۔ فتح کے بعد عربوں نے خوب مال غنیمت حاصل کی، عام لوگوں کو غلام بنایا۔ 712 میں سندھ میں عربوں کے حکمرانی شروع ہوئی۔ عربوں کے بعد سندھ میں مختلف مقامات پر بغاوتیں ہوئیں اور اس کے ردعمل میں عربوں نے طاقت کے استعمال سے انہیں ختم کیا۔ مسلسل جنگوں کی وجہ سے سندھ کا معاشرا بدنظمی کا شکار رہا۔

عربوں کے بعد غوریوں نے سندھ پر گیارویں صدی کے اوائل میں حملا کیا۔ جس کے نتیجے میں سندھ پر غوریوں کی حکومت رہی۔ ناصر الدین قباچہ کو اوچھ اور ملتان کا گورنر مقرر کیا گیا جو کہ سندھ کے ماتحت تھے۔ناصر الدین قباچہ نے سندھ پر 22 سال تک حکومت کی اور اس دور میں سندھ اور وسط ایشیا کے درمیان تعلقات بڑہے۔

برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا دور شروع ہوا تو مغلوں نے ہندوستان کی تمام چھوٹے چھوٹے خودمختار ریاستوں کو مغل سلطنت میں شامل کیا۔ بابر نے 1507 میں کابل پر قبضہ کیا تو وہاں کا حکمران شاہ بیگ ارغون سندھ آ کر اپنی نئی حکومت قائم کی۔ ارغونوں کے بعد سندھ پر مغلوں کا قبضہ دو حصوں میں ہوا، بکھر کا علاقہ مغل سلطنت میں شامل ہوا اور پھر ٹھٹہ پر قبضہ کیا گیا۔ ان کا یہ قبضہ 1591 سے لے کر 1739 تک رہا۔

فتح کے بعد اس ریاست کی عوام اور نظامِ کو سنبھالنا درحقیقت مشکل ہے۔ مغلوں کے جو ناظم اور گورنر سندھ آئے انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور عام عوام پر ظلم ڈھاہے۔ سندھ چونکہ سلطنت سے ایک طرف تھی تو اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور جو عہدے دار سندھ آئے وہ نہ تجربہ کار تھے۔ اس نتیجے میں سندھ کی معاشی و سیاسی صورتحال بگڑتی رہی اور طاقت کے زور پر زمیندار اور جاگیر داروں نے زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ سندھ بدامنی کا شکار رہا ان اندرونی جھگڑوں اور سندھ سے مغلوں کو کوئی فوائد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کو رضاکارانہ طور پر کلہوڑو کو دے کر چلے گئے۔

چونکہ سندھ پر غیر ملکی حکمران قابض رہے ہے اور کلہوڑو نے نہ سیاسی ترض سے اقتدار میں آئے نہ ہی جنگی لحاظ سے اسی لیے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنا شجرہ عباس سے ملایا کیونکہ برصغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح عرب وسط ایشیا اور افغانستان سے آنے والوں کی یہاں بھی زیادہ عزت دی جاتی ہے جب کہ مقامی لوگوں کو ان کے مقابلہ حقیر سمجھا جاتا تھا۔ کلہوڑو نے افغان حملوں کی خلاف ورزی نہیں کی جس کے باعث افغانوں کی لوٹ مار برابر رہی۔

کلہوڑو کے دور میں انگریزوں نے اپنی دوسری تجارتی کوٹھی قائم کی تھی، اور انگریزوں کا تجارتی مرکز اتنا بڑھ چکا تھا کہ اٹھارھویں صدی کے آخر تک اس انڈیا کمپنی ہندوستان میں سیاسی اقتدار مستحکم کر چکی تھی۔افغانوں کی حملوں کی وجہ سے انگریز خوف میدے کی ان کی وجہ سے ان کا تجارتی مراکز بند ہو سکتا ہے۔ان حملوں کو روکنے کے لیے انگریزوں نے منصوبہ بندی شروع کی اور برصغیر میں جتنی بھی خودمختیار ریاستیں تھیں ان پر قبضہ کیا۔

سندھ کے مسلمان گاؤں اور دیہاتوں تک محدود تھے اور ان کے برعکس ہندو کاروباری اور تاجر تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فسادات شروع ہوئے جس کا فائدہ انگریزوں کو ہؤا۔ سندھ میں بدامنی اور بدنظمی کی وجہ سے 1843 میں سندھ پر قبضہ کیا۔ اس کتاب میں سندھ کے مختلف خاص شہروں کا ذکر ہے اور اہم تجارتی مراکز کا زکر ہے جن کو بعد میں انگریزوں نے قبضہ کیا ، دیبل بندرگاہ لاری بندرگاہ سہون اور عمرکوٹ۔

مسلسل غیر ملکیوں کے قبضے میں رہنے کے بعد سندھیوں کو احساس ہوا کہ وہ ایک خودمختیار قوم ہیں اور ان میں قوم پرستی کا جذبات ظاہر ہوئے۔ مگر پاکستان کی آزادی کے بعد سندھ کو پاکستان میں شامل کیا گیا اور قوم پرستی کا دوسرا رخ تب آیا جب ملک میں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے۔

آج ہمیں غیر ملکیوں کے حملوں کا خطرہ نہیں ہے مگر سامراج اب سیاسی اقتدار پر قبضہ سامنے سے نہیں کرتا بلکہ اقتصادی و معاشی ذرائع پر قبضہ ہو کر سیاسی اداروں پر اپنا تسلط قائم کرتا ہے اور اپنے مفادات کے تحت حکمران طبقوں کو استعمال کرتا ہے۔

عوام کو باشعور بنانے میں تاریخ اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ تاریخ ایسا علم ہےجو ناصرف آگہی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اسے سبق بھی سیکھ سکتے ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب تاریخ کو عوام کے نقطہ نظر سے لکھا جائے۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Sindh Khamoshi Ki Awaz”

Your email address will not be published. Required fields are marked *