Saaey Roshani Niqltay Hain

400.00

SKU: 9789695628263 Categories: ,

Book Details

Weight 0.3 kg
Writer

Arshad Mehmod Hadi

Pages:

200

Publisher:

Fiction House

Language:

Urdu

Year:

2020

ISBN No:

9789695628263

سائے روشنی نگلتے ہیں. (افسانے)
افسانہ نگار : ارشد محمود ہادی
پبلشرز : فکشن ہاوس 03009119978
مبصر : سلیم اختر ڈھیرا
ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ

آپ ضرور کبھی ڈروانا خواب دیکھتے دیکھتے ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھے ہوں گے. آپ کے الجھے خیالات میں خواب اور وجودی حقیقت گڈمڈ ہوتی رہی ہو گی اور آپ کئی روز تک عجیب و غریب ناقابل بیان سی نفسیاتی کیفیت سے دوچار رہے ہوں گے اور اس مہیب خواب نے ضرور آپ کی روح کو گھایل کیا ہوگا. آپ کئی روز تک اس خواب کے اثر سے نکل نہ پائے ہوں گے اور آپ کو کائنات اور ارد گرد کے وجود سے عجیب سی وحشت محسوس ہوئی ہو گی.

ایسا ہی احساس آپ کو ارشد محمود کے افسانے پڑھ کر ہوتا ہے. مگر ارشد محمود کے افسانے وہ ڈراونے خواب ہیں جو ایک حساس شخص دن دیہاڑے جاگتے میں کھلی آنکھ سے دیکھتا ہے. اور اسے انسان اور اپنے ہی وجود سے وحشت ہونے لگتی ہے.

یہ حیرت کدہ جسے ہم دنیا کہتے ہیں بھی اک خواب ہے. مگر کچھ کے لیئے خوشگوار اور کچھ کے لیئے پراسرار و بے زار. کچھ لوگ یہاں شادیانے بجانے آئے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ بین اٹھانے. یہ زندگی مٹھی بھر لوگوں کے لیئے گلزار ہے مگر انبوہ کے لیئے نار. کچھ لوگوں کے پالتو کتے بھی بادام کھاتے ہیں مگر کچھ کے لئیے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیئے دن بھر چند نوالے بھی میسر نہیں.

ارشد محمود ہادی نے جس دنیا کا نقشہ کھینچا ہے وہاں نسلیں درد چباتی ہیں، مفلوک الحال لوگ ازیت کی زندگی جینے سے موت گلے لگانے کو ترجیح دیتے ہیں. ایک ایسی دنیا جہاں زندہ لوگ اپنے ننگے جسموں کو لباس عطا کرنے کے لئیے تازہ مدفون مردوں کو بے لباس کرتے ہیں. جہاں گورکن کو کسی کی موت میں ہی اپنی حیات نظر آتی ہے.جہاں مرد عورتوں کو جسم بیچنے پر مجبور ہو. جہاں لوگ خود کو آگ لگانے، عمارتوں سے چھلانگیں لگا کر جان دینے اور ایک دوسرے کو آمنے سامنے کھڑا کر کے گولیوں سے چھلنی کر دینے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں. اک ایسی دنیا جہاں بارود کی بو چار سو پھیلی ہو وہاں سانس اکھڑنے لگے اور دم گھٹنے لگے. ایسی دنیا جہاں لوگ ڈر اور خوف کے پنجروں میں سہمے سہمے سسکیاں بھرتے ہوں، جہاں لوگوں کی گردنوں میں مفروضوں اور غیرت کے پھندے ڈال کر چوکوں چوراہوں میں بے آبرو کیا جاتا ہو. جہاں ظلم و جبر کے سائے روشنی نگلتے ہوں ایسی دنیا ڈروانا خواب نہیں تو پھر اور کیا ہے.

ہادی ایسا افسانہ نگار ہے جس کو آپ بڑی آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے آسانی سے سمجھ آ جانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں.. ہاں اگر آپ نے کافکا، فرآئیڈ ، ینگ ، خالدہ حسین، مظہر الاسلام وغیرہ کو پڑھ رکھا ہے تو آپ یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوں گے.

ہادی آپ کو چھت تک پہنچنے کے لئیے سیدھی سیڑھی ہرگز مہیا نہیں کرتا. وہ آپ کو اندھیری پراسرار بھول بھلیوں میں دھکیل دیتا ہے. آپ کو خوفناک دریا میں پھینک دیتا ہے… آپ کو لمحہ بہ لمحہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ڈوبنے والے ہو، آپ اسی خوف سے ہاتھ پاوں مارتے جاتے ہو، جب آپ دوسرے کنارے پہنچتے ہو، آپ کی سانسیں بے ترتیب ہوتی ہیں، دل زور سے دھڑک رہا ہوتا ہے. مگر آپ کو شناور ہونے کا احساس ہونے لگتاہے.

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Saaey Roshani Niqltay Hain”

Your email address will not be published. Required fields are marked *