Paksiatn (Tarikhi o Saqafti Jaiza)

ڈسٹرکٹ تحصیلوں اور ان کے مشہور مقامات کی معلومات کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ کراچی کے ساحلوں سے گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں تک یہ کتاب ہر رنگ میں پاکستان، تاریخ، آرکیالوجی، مشہور تاریخی عمارات ، دریاوں، صحراوں اور ان کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہزاروں برس پرانی گندھارا کی تہذیب ہو یا موہنجو داڑو کے شہر بے مثل کی باقیات ہوں ، اشوک کی تعلیمات کے مظاہر ہوں یا بیرونی حملہ آوروں کے اثرات، ہمارا خطہ بلاشبہ بہت اہم زمین ارتقاء کا میدان رہا ہے۔ تھر کے صحراؤں سے دنیا کے بلند ترین میدان اور برفیلے پہاڑوں سے مٹی کے عجیب الخلقت ٹیلوں، دھاڑتے شور مچاتے دریادوں، آبشاروں اور جھرنوں سے گرم گارے کے مٹی فشاں تک کا احاطہ کرنے والی کتاب۔۔۔ تاریخ، سیاحت و ثقافت کا وہ امتزاج ہے جو نایاب ہیں تو کم یاب یقین ہوگیا ہے۔

ڈسٹرکٹ تحصیلوں اور ان کے مشہور مقامات کی معلومات کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ کراچی کے ساحلوں سے گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں تک یہ کتاب ہر رنگ میں پاکستان، تاریخ، آرکیالوجی، مشہور تاریخی عمارات ، دریاوں، صحراوں اور ان کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہزاروں برس پرانی گندھارا کی تہذیب ہو یا موہنجو داڑو کے شہر بے مثل کی باقیات ہوں ، اشوک کی تعلیمات کے مظاہر ہوں یا بیرونی حملہ آوروں کے اثرات، ہمارا خطہ بلاشبہ بہت اہم زمین ارتقاء کا میدان رہا ہے۔ تھر کے صحراؤں سے دنیا کے بلند ترین میدان اور برفیلے پہاڑوں سے مٹی کے عجیب الخلقت ٹیلوں، دھاڑتے شور مچاتے دریادوں، آبشاروں اور جھرنوں سے گرم گارے کے مٹی فشاں تک کا احاطہ کرنے والی کتاب۔۔۔ تاریخ، سیاحت و ثقافت کا وہ امتزاج ہے جو نایاب ہیں تو کم یاب یقین ہوگیا ہے۔

500.00

Book Details

Weight 0.5 kg
ISBN No:

9789695627266

Publisher:

Fiction House

Pages:

256

Language:

Urdu

Year:

2019

کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ہمارے پاکستان کے بارے میں ہے۔ مصنف محمد عبدہ جن کا نام پاکستان کی تاریخ و سیاحت کے حوالے سے اب کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ اور جس جانفشانی سے یہ اس میدان میں اپنا تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں وہ قابل ستائش و لائق خراج تحسین یے۔ ان گنت تحقیقی کالمز کے مصنف جو کہ سوشل میڈیا و مختلف ویب سائٹس پر پبلش ہوتے رہتے ہیں ۔اور ان میں بیشتر کا موضوع صرف ایک “پاکستان” ہے۔ اس سے پہلے انکا سفر نامہ “خورد وپن پاس، پُر خطر راستوں کا سفر ” پڑھ چکی ہوں اور اس کو پڑھنے کے بعد اپنے احساسات قلمبند کرنے کی اپنی سی سعی بھی کر چکی ہوں۔ زیر نظر کتاب نہیں بلکہ کہا جائے تو سیاحتی و کسی حد تک تاریخی طور پر ایک تحقیقی مقالہ ہے ایک کتاب رہنمائی ہے۔ جو اک لفظ پاکستانی سیاحت کے گرد گھومتا ہے۔ پاکستان کے طول و وعرض میں کونسی ایسی جگہ نہیں جس کے بارے آپ اس کتاب میں نہیں پڑھیں گے۔ اس جگہ کی تاریخی حوالے سے اہمیت و دلچسپ حوالہ جات ایسے پیش کیے گئے ہیں کہ مطالعہ کرتے ہوئے بلکل بھی اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ قاری جو اک سیاح بھی ہو یا سیاحتی روح بھی رکھے اسکے لیے یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔کتاب پڑھ کر تو ایسے ہی محسوس ہوتا کہ ابھی اسی لمحے “سیاحت پاکستان ” کے لیے نکل لیا جائے۔سیاحت کی تاریخ و اس حوالے سے دلچسپ معلومات سے بات شروع ہوتی ہے تو پھر پاکستان کے ساحل، میدان، پہاڑ، صحرا، کھانے، شہر، گاؤں بستیاں،جزیرے، چراگاہیں،وادیاں،چوٹیاں، لوگ، غرض کیا کچھ نہیں جو پڑھنے کو نہ ملے۔ پنجاب کی بات کی جائے تو پھر اسکے شہروں اور شہروں میں موجود جگہوں اور انکے کھانوں کا ذکر کہ آپ کو اس سوغاتوں کو چکھنے کی چاہ ہونے لگتی ہے۔ قدیمی عمارتوں کی قدامت کی مختصر داستان و فی زمانہ انکے گرد و نواح کی جدت کے حوالے ملیں گے بلوچستان کی چھپی خوبصورتیاں عیاں ہونگی سندھ دھرتی کے تاریخی و دلچسپ مقامات بارے وہ معلوم ہوگا جو عام طور پر ذہن میں نہیں آتا۔ خیبر پختونخواہ میں گم ہوجانے کی چاہ ہونے لگے گی۔ اور پھر گلگت بلتستان وادیوں کے سبزے سے آپ سر سبز ہوتے ہیں تو ان کے قرب و جوار کی برفیں و برفانی طویل راستے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ شاہراہ ریشم کے طلسم کو کھوجنے کی چاہ دل میں سر اٹھاتی یے۔

الغرض عمومی طور پر اک کتاب دوست قاری کے لیے اور خصوصی طور پر ایک سیاحتی روح رکھنے والے کی کتب کولیکشن میں یہ کتاب لازمی ہونا چاہیے۔ آپ اک ایڈوینچرس سفر کرنے والے ہیں یا ایک سیدھے سادے سیاحت کے دل دادہ یہ کتاب ہر لحاظ سے آپکی دوست بننے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔

میں مصنف کی مشکور ہوں کہ مجھے ان کی طرف سے پر شفقت لفظوں کے ساتھ آٹو گراف کاپی عنائیت کی گئی اور یہ بے شک اک اعزاز کی بات ہے۔

 

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Paksiatn (Tarikhi o Saqafti Jaiza)”

Your email address will not be published. Required fields are marked *