من کی آواز | Mun Ki Awaz

Fiction House

Skip to product information
1 of 1
Regular price Rs.375.00 PKR
Regular price Rs.500.00 PKR Sale price Rs.375.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
من کی آواز
عورت، جسے مرد نے ہمیشہ سربستہ راز تصور کیا، مرد تخلیق کاروں کا موضوع رہی، لیکن عورت کی کیفیات کی مکمل عکاسی ایک عورت ہی کر سکتی ہے، عورت کے احساسات و جذبات کو ایک عورت کو ہی بیان کر سکتی ہے، انداز چاہے تند ہو، سبک ہو، یا نرم رو ہو۔
زہرا کا دھیما نرم رو انداز اسکی کہانیوں میں بھی نظر آتا ہے۔
زہرا زندگی کی حقیقتوں اور مسائل کو گہرائ سے جانچتی اور پرکھتی ہے، گھریلو و ازدواجی مسائل کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق سمجھنا اور لکھنا زہرا کا خاصہ ہے جو اسکے بلاگز میں بھی نظر آتا ہے اور من کی آواز کی کہانیوں میں بھی۔
بتول آپا اور سونی کلائیاں دو مختلف ازدواجی مسائل پر لکھے گئے افسانے ہیں۔ زہرا نے کہانی کی بنت میں عورت کے احساسات کو بہ خوبی بیان کیا ہے۔ دونوں کہانیوں کا انجام یاسیت زدہ ہونے کے بجائے عورت کی مرضی پر کیا گیا ہے۔
دور جدید کی عورت زندگی کی کہانی کا انجام بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بے اثر دوائ ایک جاندار مختصر کہانی ہے، ہم بے اثر ادویات کے زیر اثر ہیں، اور اسی اثر کے نتیجے میں
" مقتل " اور "بھٹکے ہوئے قافلے "جیسی کہانیاں وجود میں آتی ہیں۔
من کی آواز میں شامل مختصر کہانیاں پر تاثر اور بھرپور ہیں، بیان کی سادگی کے ساتھ خوابیدہ بے حسی کو جگاتی یہ کہانیاں اردو ادب میں بہترین اضافہ ہیں۔
نیلی آنکھوں والی گڑیا اور قبر کی پہلی رات
خصوصی انسانوں کی کہانیاں ہیں۔
خصوصی انسانوں اور انکے مسائل پر لکھنا اہل قلم و اہل دل کا فرض ہے اور زہرا نے یہ فرض بہ خوبی نبھایا ہے۔
قبر کی پہلی رات کی اختتامی سطور میں گہرا تاثر پنہاں ہے۔
" قبر کی روشنی تاریکی میں بدلنے لگی، یکدم آوازیں گونجنے لگیں، سوال بار بار دہرائے گئے، آخر کار سوال کرنے والے تھک ہار کر ناکام چلے گئے اور وہ اپنے دوسرے جنم کی پہلی جیت پر مسکرانے لگا "
زہرا سے مستقبل کی امید وابستہ ہے، زہرا کی مزید کتابیں بھی ہمارے ہاتھوں میں آئیں گی اور ہم اردو افسانوں اور کہانیوں کی چاشنی سے لطف اندوز ہونگے۔
مطربہ شیخ
  • Share your shipping policy
  • Share your packaging details
View full details